*کرونا وائرس سے ملاقات*
*ہم* : کرونا CAA بھارت کا اندرونی معاملہ ہے آپ یہاں دخل نہ دیں.
*کرونا* : چپ بےےےےےے!
*ہم* : معاف کرنا ہم کو آپ سے ڈر نہیں لگتا.آپ اتنے برے نہیں ہوں.
*کرونا* : تو بھر مجھ سے برا کون ہے یہاں؟
*ہم* : CAA.
*کرونا* : آیں ؟ وہ کیوں؟ کیسے؟
*ہم* : CAA ایک مانباپ کی اولاد کو بانٹنے کا کام کرتا ہے.آپ ایسا نہیں کرتے.
*کرونا* : توکیامیرے آنے کے بعد آپ لوگ اپنے DNA پر غور نہیں کروگےےےےےےے؟
*ہم* : ہاں ہم بھی یہی سونچ رہے ہیں اور بہت سوں نے کہا بھی کہ DNAکی بنیادپر CAA ہو.
*کرونا* : توپھررررر؟
*ہم* :........! ؟
*کرونا* : چھوڑ دو رونا. میرے نام سے تو آج 'وہ' بھی قید ہوگئے. مگر جتنوں کو مجھے لےجانا ہے انہیں لےکر ہی جاؤں گا.
*ہم* : مگر..!
*کرونا* : مگر وگر کچھ نہیں. تمہارا اندرونی معاملہ دیکھو تمہارے پاس ہے ہی کیا؟ برتن پیٹنے کے سوا؟
*ہم* : پھر.
*کرونا* : پھر کیا پھر؟ برتن بجانے سے بندر بھاگتے ہوں گے مگر میں نہیں.
*ہم* : بڑی مورتی بنائے ہم نے آپ ادھر سے نہیں آئے کیا؟
*کرونا* : ہا ہا ہا...... مووورتی! اگنی میزائل بھی مجھے نہیں روک سکتا.
*ہم* : مگر آپ اتنے باریک کیوں ہو؟
*کرونا* : مجھے بنانے والا بڑا باریک بیں ہے. وہ خود دکھائی نہیں دیتا تو لوگ سمجھتے ہیں وہ ہے ہی نہیں.
*ہم* : مطلب اللہ نے؟
کرونا : ہاں.
*ہم* : ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ آپ کو واپس اپنے پاس بلالے.
*کرونا* : مجھے جتنا کام دیا گیا ہے وہ میں کرکے جاؤں گا. لوگ اپنی فکر کریں. تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کریگا.
*عبدالقدوس@بھوکردن*